• Magazine
  • Videos
  • Gallery
Urdu
  • ગુજરાતી ગુજરાતી
  • Urdu Urdu
  • English (UK) English (UK)
  • हिन्दी हिन्दी

Sidebar

  • Magazine
  • Videos
  • Gallery

Magazine menu

  • Home
  • قرآن مجید
  • عقاید
  • نبی اکرم و اھلبیت
  • تاریخ
  • احادیث
  • احکام
  • دعا و زیارات
  • مختلف مقالات
  • کتابخانہ
Shaheede Rabe Shaheede Rabe Shaheede Rabe Shaheede Rabe Shia Network
05
SUN, APR
  • Home
  • قرآن مجید
  • عقاید
  • نبی اکرم و اھلبیت
  • تاریخ
  • احادیث
  • احکام
  • دعا و زیارات
  • مختلف مقالات
  • کتابخانہ

حضرت علی (ع) کی ولادت

Details
امام علی علیہ السلام
02 SEPTEMBER 2016
Read more ...
Write comment (0 Comments)

اول المسلمین

Details
امام علی علیہ السلام
02 SEPTEMBER 2016
Read more ...
Write comment (0 Comments)

عزاداری سید الشہداء تاریخ کے آئینے میں

Details
امام حسین علیہ السلام
10 OCTOBER 2016
Read more ...
Write comment (0 Comments)

امام مھدی عجل اللّٰہ فرجہ الشریف سے رابطہ کیسے کریں..؟

Details
امام مھدی علیہ السلام
20 APRIL 2019

تقریر: آیت اللّٰہ العظمیٰ وحید خراسانی دامت برکاتہ

ترجمه و تلخیص: سید محمد کمیل شہیدی

Read more ...
Write comment (0 Comments)

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام

Details
امام علی علیہ السلام
02 SEPTEMBER 2016

نام

پیغمبر اسلام  (ص) نے   آپ کا نام  اللہ کے نام پر علی رکھا    ۔ حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام  (ص) سے عرض کیا کہ ہم نے ہاتف غیبی سے یہی نام سنا تھا۔  آپ کے مشہور القاب  امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں۔

 

 

القاب

 

آپ کے مشہور القاب  امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں۔

 

کنیت
  حضرت علی علیہ السّلام  کی مشہور کنیت  ابو الحسن و ابو تراب ہین۔

 

والدین

 

حضرت علی (ع) ھاشمی خاندان کے وه پھلے فرزند ھیں جن کے والد اور و الده دونوں ھاشمی ھیں ۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ھاشم ھیں اور ماں فاطمه بنت اسد بن ھاشم ھیں ۔  

 

ھاشمی خاندان قبیل ہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے مشھور و معروف تھے ۔

 

جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور بھت سے فضائل بنی ھاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

 

ولادت

 

جت حضرت علی (ع) کی ولادت کا وقت قریب آیا تو فاطمه بنت اسد کعبه کے پاس ائیں اور آپنے جسم کو اس کی دیوار سے مس کر کے عرض کیا:

 

پروردگارا ! میں تجھ پر، تیرےنبیوں پر، تیری طرف سے نازل شده کتابوں پر اور اس مکان کی تعمیر کرنے والے، آپنے جد ابراھیم (ع) کے کلام پر راسخ ایمان رکھتی ھوں ۔

 

پروردگارا ! تجھے اس ذات کے احترام کا واسطہ جس نے اس مکان مقدس کی تعمیر کی اور اس بچه کے حق کا واسطه جو میرے شکم میں موجود ھے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما ۔

 

ابھی ایک لمحہ بھی نھیں گزرا تھا که کعبہ کی جنوبی مشرقی دیوار ، عباس بن عبد المطلب اور یزید بن تعف کی نظروں کے سامنے شگافته ھوئی، فاطمه بنت اسد کعبہ میں داخل ھوئیں اور دیوار دوباره مل گئی ۔ فاطمه بنت اسد تین دن تک روئے زمین کے اس سب سے مقدس مکان میں اللہ کی مھمان رھیں اور تیره رجب سن ۳۰/ عام الفیل کو بچہ کی ولادت ھوئی ۔ ولادت کے بعد جب فاطمه بنت اسد نے کعبہ سے باھر آنا چاھا تو دیوار دو باره شگافتہ ھوئی، آپ کعبه سے باھر تشریف لائیں اور فرمایا :” میں نے غیب سے یہ پیغام سنا ھے که اس بچے کا ” نام علی “ رکھنا “ ۔

 

بچپن  ا ور  تربیت

 

حضرت علی (ع) تین سال کی عمر تک آپنے والدین کے پاس  رہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آگئے۔ کیون کہ جب آپ تین سال کے تھےاس وقت  مکہ میں بھت سخت قحط پڑا ۔جس کی وجہ سے  رسول الله (ص) کے چچا ابو طالب کو اقتصادی مشکل کابہت سخت سامنا کرنا پڑا ۔ رسول الله (ص) نے آپنے دوسرے  چچا عباس سے مشوره کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ ھم میں سے ھر ایک، ابو طالب کے ایک ایک بچے کی کفالت آپنے ذمہ لے لے تاکہ ان کی مشکل آسان ھو جائے ۔ اس طرح عباس نے جعفر اور رسول الله (ص) نے علی (ع) کی کفالت آپنے ذمہ لے لی ۔

 

حضرت علی (ع) پوری طرح سے پیغمبر اکرم (ص) کی کفالت میں آگئے اور حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفےٰ کے زیر نظر ہونے لگی ۔ ا ٓ پ نے انتہائی محبت اور توجہ سے آپنا پورا وقت، اس چھوٹے بھائی کی علمی اورا خلاقی تربیت میں صرف کیا.  کچھ تو حضرت علی (ع) کے ذاتی جوہر اور پھراس پر رسول جیسے بلند مرتبہ مربیّ کافیض  تربیت ، چنانچہ علی علیہ السّلام دس برس کے سن میں ہی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ جب پیغمبر اسلام (ص) نے رسالت کا دعوی ک یا، تو آپ نے ان کی تصدیق فرمائ ۔    آپ ھمیشه رسول الله (ص) کے ساتھ رھتے تھے،  یہاں تک کہ جب پیغمبر اکرم (ص) شھر سے باھر، کوه و بیابان کی طرف جاتے تھے تو آپ کو آپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔

 


  پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت اور  حضرت علی (ع)

 

  جب حضرت محمد مصطفے ( ص ) چالیس سال کے ہوئے تو اللہ نے انہیں عملی طور پر آپنا پیغام پہنچانے کے لئے معین فرمایا ۔ اللہ کی طرف سے پیغمبر (ص) کو جو یہ ذمہ داری سونپی گئ ، اسی کو بعثت کہتے ہیں .

 

حضرت محمد (ص)  پر وحی الٰھی کے نزول و پیغمبری کے لئے انتخاب کے بعدکی  تین سال کی مخفیانہ دعوت کے بعد بالاخرخدا کی طرف سے وحی نازل ھوئ اور رسول الله (ص) کو عمومی طور پر دعوت اسلام کا حکم دیا گیا ۔

 

اس دوران پیغمبراکرم (ص) کی الٰھی دعوت کے منصوبوں کو عملی جامہ پھنانے والے تنھا حضرت علی (ع) تھے۔ جب رسول الله (ص) نے اپنے اعزاء و اقرباء کے درمیان  اسلام کی تبلیغ کے لئے انہیں دعوت دی تو آپ کے ھمدرد و ھمدم، تنھا حضرت علی (ع)  تھے ۔

 

اس دعوت میں پیغمبر خدا (ص) نےحاضرین سے سوال کیا کہ آپ میں سے کون ہے جو اس راه میں میری مدد کرے اور آپ کے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین ھو؟

 

اس سوال کا جواب فقط حضرت علی (ع) نے دیا :” اے پیغمبر خدا ! میں اس راه میں آپ کی نصرت کروں گا ۔ پیغمبر اکرم (ص) نے تین مرتبه اسی سوال کی تکرار اور تینوں مرتبہ حضرت علی (ع) کا جواب سننے کے بعد فرمایا :

 

اے میرے خاندان والوں ! جان لو که علی میرا بھائی اور میرے بعد تمھارے درمیان میرا وصی و جانشین ھے ۔

 

علی (ع) کے فضائل میں سے ایک یہ بھی ھے کہ آپ (ع) رسول الله (ص) پر ایمان لانے والے سب سے پھلے شخص ھیں ۔ اس سلسلے میں ابن ابی الحدید  لکھتے ھیں :

 

”بزرگ علماء اور گروه معتزلہ کے متکلمین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نھیں ھے کہ علی بن ابی طالب (ع) وه پھلے شخص ھیں جو پیغمبر اسلام پر ایمان لائے اور پیغمبر خدا (ص) کیتصدیق کی “۔

 

رسول اسلام کی بعثت، زمانہ , ماحول, شہر اور آپنی قوم   و خاندان کے خلاف ایک ایسی مہم تھی ،  جس میں رسول کا ساتھ دینے والا کوئی نظر نہ ی اتا تھا ۔  بس ایک علی علیہ السّلام تھے کہ جب پیغمبر نے رسالت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے ا ن کی تصدیق کی اور ان پر ایمان کااقرارکیا . دوسری ذات جناب خدیج ۃ ال کبریٰ کی تھی، جنھوں نے خواتین کے طبقہ میں سبقتِ اسلام ک ا شرف حاصل کیا۔

 

  پیغمبر کادعوائے رسالت کرنا تھا کہ   مکہ کا ہر آدمی رسول کادشمن نظر انے لگا . وہی لوگ جو کل تک آپ کی سچائی اورامانتداری کادم بھرتے تھے اج آپ کو ( معاذ الله ( یوانہ،  جادو گر اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔  اللہ کے رسول کے راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے، انہیں پتھر مارے جاتے اور ان کے سر پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا. اس مصیبت کے وقت میں رسول ک ے شریک صرفاور صرف حضرت علی علیہ السّلام تھے، جو بھائی کاساتھ دینے میں کبھی بھی ہمت نہیں ہار تے تھے ۔ وہ ہمیشہ محبت ووفاداری کادم بھرتے رہےاور  ہرموقع پر رسول کے سینہ سپر رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی ایا جب مخالف گروہ نے انتہائی سختی کے ساتھ یہ طے کرلیا کہ پیغمبر اور ان کے تمام گھر والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔   حالات اتنے خراب تھے کہ جانوں کے لالے پڑ گئے تھے .حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے آپنے تمام ساتھیوں کو حضرت محمدمصطفےٰ سمیت ایک پہاڑ کے دامن میں محفوظ قلعہ میں بند کردیا۔ وہان پر تین برس تک قید وبند کی زندگی بسر کرنی پڑی .  کیون کہ اس دوران ہر رات یہ خطرہ  رہتا تھا کہ کہیں دشمن شب خون نہ مار دے . اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ رات بھر رسول کو ایک بستر پر نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ ک بھی رسول کے بستر پر جعفر کو اور جعفر کے بستر پر رسول کو ک بھی عقیل کے بستر پر رسول کو   اور رسول کے بستر پر عقیل کو ک بھی  علی کے بستر پر رسول کو اور رسول کے بستر پر علی علیہ السّلام کو لٹا تے  رہتے تھے. مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن رسول کے بستر کا پتہ لگا کر حملہ کرنا چاہے تو میرا  کوئ بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول کا بال بیکانہ ہونے پائے . اس طرح علی علیہ السّلام بچپن سے ہی فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کو عملی طور پر دہراتے رہے .

 

رسول کی ہجرتاور  حضرت علی (ع)

 

حضرت علی (ع) کے دیگر افتخارات میں سے ایک یہ ھے کہ جب شب ھجرت مشرک دشمنوں نے رسول الله (ص) کے قتل کی سازش رچی تو  آپ (ع) نے پوری شجاعت کے ساتھ رسول الله (ص) کے بستر پر سو کر انکی سازش کو نا کام کر دیا۔

 

  حضرت ابو طالب علیہ السّلام کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کاارادہ کرلیا ۔ دشمنوں نے یہ سازش رچی کہ ایک رات جمع ہو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شہید کرڈالیں۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے آپنے جاں نثار بھائی علی علیہ السّلام کو بلا کر اس   سازش کے بارے میں اطلاع دی اور فرمایا کہ میری جان اس طرح بچ سکتی ہے اگر آج رات آپ میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مکہ سے روانہ ہوجاؤں . کوئی دوسرا ہوتاتو یہ پیغام سنتے ہی اس کا دل دہل جاتا،  مگر علی علیہ السّلام نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ سے رسول کی جان کی حفاظت ہوگی، خدا کاشکر ادا کیا اور بہت خوش ہوئے کہ مجھے رسول کافدیہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہی ہوا کہ رسالت ماب شب کے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور علی بن ابی طالب علیہ ما السّلام رسول کے بستر پر سوئے۔ چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے . بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ہو اور سب کے سب گھر میں داخل ہو کر رسالت ما ٓ ب کو شہید کر ڈالیں . علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتھ بستر پرارام کرتے رہے اور اپنی جان کا ذرا بھی خیال نہ کیا۔ جب دشمنوں کو صبح کے وقت یہ معلوم ہوا کہ محمد نہیں ہیں تو انھوں نے آپ پر یہ دباؤ ڈالا کہ آپ بتلادیں کہ رسول کہا ںگئے ہیں ? مگر علی علیہ السّلام نے بڑے بہادرانہ انداز میں یہ بتانے سے قطعیطور پر انکار کردیا . اس کا نتیجہ یہ ہواکہ رسول الله (ص) مکہ سے کافی دور تک بغیر کسی پریشانی اور رکاوٹ کے تشریف لے جاسکیں.علی علیہ السّلام تین روز تک مکہ میں رہے . جن  لوگوں کی امانتیں رسول الله کے پاس تھیں ان کے سپرد کر  کےخواتین ُبیت ُ رسالت کو آپنے ساتھ لے کرمدینہ کی طرف روانہ ہوئے . آپ کئ روز تک رات دن پیدل چلے کر اس حالت میں رسول کے پاس پہنچے کہ آپ کے پیروں سے خون بہ رہا تھا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علی علیہ السّلام پر رسول کو سب سے زیادہ اعتماد تھااور  جس وفاداری , ہمت اور دلیری سے علی علیہ السّلام نے اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے وہ بھی آپنی آپ میں ایک مثال ہے۔

 

شادی  
 
جبرسول اکرم (ص) ہجرت کر کے  مدینے گئے تو فاطمہ زہرا السّلام اللہ عل یہا بالغ ہو چکی تھیں اور پیغمبر(ص) اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ک ی شادی کی فکر میں تھے.کیوں کہ رسول(ص) اپنی بیٹی س ے بہت محبت کر تے تھے اور انہیں اتنی عزت دیتے تھے کہ جب فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ان کے پاس تشریف لاتی تھیں تو رسولاللہ (ص)ان کی تعظیم کے ل ئے کھڑے ہوجاتے تھے .اس لئے ہر شخص رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتھ منسوب ہونے کا شرف حاصل کرنے کی تمنا میں تھا. کچھ لو گوں نے ہمت کر کے سول کو پیغام بھی دیا مگر حضرت نے سب کی خواہشوں کو رد کردیا اور فرمایا کہ فاطمہ کی شادی اللہ کے حکمِ بغیر نہیں ہوسکتی ۔

 

عمر و ابوبکر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ سے مشوره کرنے کے بعد اس نتیجے پر پھونچ چکے تھے  کہ علی (ع) کے سوا کوئی بھی زھرا (س) کے ساتھ ازدواج کی لیاقت نھیں رکھتا۔ ایک دن جب حضرت علی (ع) انصار رسول (ص) میں سے کسی کے باغ میں آبیاری کر رھے تھےتو انھوں نے اس موضوع کو آپ (ع) کے سامنے چھیڑا اور آپ نے فرمایا :

 

” میں بھی دختر رسول (ص) سے شادی کا خواھاں ھوں ، یہ کہہ کر  آپ رسول الله (ص) کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

 

جب رسول الله (ص) کی خدمت میں پھونچے تو رسول الله (ص) کی عظمت اس بات میں مانع ھوئی که آپ (ع) کچه عرض کریں ۔جب  رسول الله (ص) نے آنے کی وجہ دریافت کی تو حضرت علی (ع) نے اپنے فضائل، تقویٰ اور اسلام کے لئے آپنے سابقہ کارناموں کی بنیاد پرعرض کیا : ” آیا آپ فاطمه کو میرے عقد میں دینا  بہتر سمجھتے ہیں ؟“

 

حضرت زھرا (س) کی رضامندی کے بعد رسول الله (ص) نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔

 

 ہجرت کا پہلا سال تھا کہ  رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کے لئے منتخب کیا . یہ شادی نہایت سادگی کے ساتھ انجام دی گئ . حضرت فاطمہ (س) کا مہر حضرت علی علیہ السّلام سے لے کر اسی سے ُ کچھ گھر کا سامان خریدا گیا جسے جہیز طور پر دیا گیا۔ وہ سامان بھی کیاتھا ؟ کچھ مٹی کے برتن ، خرمے کی چھال کے تکیے،  چمڑے کابستر، چرخہ، چکی اور پانی بھرنے کی مشک . حضرت زہرا (س) کا مہر ایک سو سترہ تولے چاندی قرار پایا،  جسےحضرت علی علیہ السّلام نے آپنی زرہ فروخت   کر کے ادا کیا ۔

 

 کتابت وحی

 

وحی الٰھی کی کتابت اور بھت سے تاریخی و سیاسی اسناد کی تنظیم اور دعوت الٰھی کے تبلیغی خطوط لکھنا، حضرت علی (ع) کے بھت اھم کاموں میں سے ایک ھے ۔ آپ (ع) قرآنی آیات کو لکھتے اور منظم و کرتے تھے اسی لئے آپ کو کاتبان وحی اور حافظان قرآن میں شمار کیا جاتا ھے ۔

 

حضرت علیہ ااسلام ، پیغمبراسلام  (ص) کے بھائ

 

پیغمبراسلام  (ص) نےمدینے پہنچ کر مسلمانوں کے درمیان بھائ کا رشتہ قائم کیا۔  عمر کو ابو بکر کا بھائ بنا بنا یاطلہ کو زبیر کا بھائ قرار دیا و۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور  حضرت علی (ع)کو رسول الله (ص) نے اپنا بھائ بنایا اور حضرت علی (ع) سے فرمایا :

 

” تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ھو، اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ۔۔۔ میں تمھیں آپنی اخوت کے لئے انتخاب کرتا ھوں ، ایک ایسی اخوت جو دونوں جھان میں بر قرار رھے “۔

 

 .
حضرت علی علیہ السلام اور اسلا می جہاد
 اسلام کے دشمنوں نے پیغمبراسال (ص) کو مدینہ میں چین سے نہ بیٹھنے دیا. جو مسلمان  مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں کچھ کو قتل  کر دیا گیا،  کچھ کو قیدی بنا لیاگیا اور کچھ کو مارا پیٹاگیا. یہی نہیں بلکہانہوں نے اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑاھئی کردی۔ اس موقع پر رسول اللہ (ص) کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کریں، کیوں کہ انھوں نے آپ کو پریشانی کے عالم میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت و مداد کاوعدہ کیا تھا، لہذا آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا کہ  آپ شہر کے اندر رہ کر  دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کو مدینہ کی پر امن ابادی میں داخل ہونے  اور عورتوں اور بچوں کو پریشان کرنے کا موقع دیں. آپ کے ساتھیوں تعداد بہت کم تھی۔  آپ کے پاس کل تین سو تیرہ آدمی تھے اور مب کے پاس  ہتھیار بھی نہیں تھے، مگر آپ نے یہ طے کیا کہ ہم  مدینے سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ چنانچہ  یہ اسلام کی پہلی جنگ ہوئی جوآگے چل کر  جنگِ بدر کے نام سے مشہور ہوئ . اس جنگ میں رسول اللہ (ص) نے آپنے عزیزوں کو زیادہ آگے رکھا، جس کی وجہ سے آپ کے چچا زاد بھائی عبید ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوگئے . علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۲۵برس تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی علیہ السّلام کے سر ہی بندھا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے ان میں سے ادھےحضرت علی علیہ السّلام کے ہاتھ سے اور ادھے، باقی مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اس کے بعد ،اُحد، خندق،خیبراور اخر میں حنین یہ وہ بڑی جنگیں تھیں جن میں حضرت علی علیہ السّلام نے رسول کے ساتھ رہ کر اپنی بہادری کے جوہر دکھا ئے۔ تقریباً ان تمام جنگوں میں علی علیہ السّلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی جنگیں  ایسی تھیں جن میں رسول نےحضرت  علی علیہ السّلام کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ہی بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ فتح حاصل کی اور استقلال،تحمّل اور شرافت ُ نفس کا وہ  مطاہرہ کیا کہاس کا  اقرار خود ان کے دشمن  کو بھی کرنا پڑا۔ جب خندق کی جنگ میں دشمن کے سب سے بڑے سورماعمر وبن عبدود کو آپ نے مغلوب کر لیا اور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پرسوار ہوئے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ اگیا اور آپ اس کے سینے سے اتر ا ٓئے . صرف اس خیال سے کہ اگراس غصّےکی حالت  میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل خواہش نفس کے مطابق ہوگا،  خدا کی راہ میں نہ ہوگا۔ اسی لئے آپ نے اس کو کچھ دیر  کے بعد قتل کیا۔ اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش کو  برہنہ کردیتے تھے، مگر حضرت علی علیہ السّلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری جبکہ  وہ بہت قیمتی تھی . چناچہجب عمرو  کی بہن آپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہاگر علی کے علاوہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی، مگر مجھے یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کاقاتل شریف انسان ہے جس نے آپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔  آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یابچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور  نہ کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ کیا .

 

غدیر خم

 

 

 

پیغمبر اکرم (ص) آپنی پر برکت زندگی کے آخری سال  میں حج کا فریضہ انجام دینے کے بعد مکہ سےمدینے کی طرف  پلٹ رہے تھے، جس وقت آپ کا قافلہ جحفه کے نزدیک غدیر خم نامی مقام پر  پہنچا  تو جبرئیل امین  یہ آیہ بلغ لیکرنازل ہوئے، پیغمبر اسلام (ص)نے قافلےکو ٹھرنے کا حکم دیا ۔

 

نماز ظھر کے بعد پیغمبر اکرم (ص) اونٹوں کے کجاوں سے بنے منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا :

 

” ایھا الناس !  وہ وقت قریب ھے که میں دعوت حق پر لبیک کہتے ھوئے تمھارے درمیان سے چلا جاؤں ،لہذا بتاو کہ میرے بارے میں تمہاری  کیا رای ہے؟ “

 

سب نے  کہا :” ھم گواھی دیتے ھیں آپ نے الٰھی آئین و قوانین کی  بہترین طریقے سے تبلیغ کی ھے “ رسول الله (ص) نے فرمایا ” کیا تم گواھی دیتے ہو  کہ خدائے واحد کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نھیں ھے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ھے “۔

 

پھر فرمایا: ” ایھا الناس ! مومنوں کے نزدیک خود ان سے بھتر اور سزا وار تر کون ھے ؟“۔

 

لوگوں نے جواب دیا :” خدا اور اس کا رسول بھتر جانتے ھیں “۔

 

پھر رسول الله (ص) نے حضرت علی (ع) کے ھاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا

 

:” ایھا الناس !  من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں“ ۔

 

رسول الله (ص) نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی ۔

 

اس کے بعد لوگوں نے حضرت علی (ع) کواس منصب ولایت کے لئے  مبارک باددی اور آپ (ع) کے ھاتھوں پر بیعت کی ۔

 

حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں

 

علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او آپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے . کبھی یہ کہا »آپ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے . کبھی یہ کہا»علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی . کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے .,,
  کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ جب  مسجدکے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی کا رشتہ قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے آپنا بھائی قرار دیا۔ اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کے مجمع میں علی علیہ السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں تم سب کا حاکم  اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب کے  سرپرست اور حاکم ہیں۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے علی علیہ السّلام کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے .

 


رسول اللہ (ص)کی وفات اور حضرت علی علیہ السلام

 

ہجرت کا دسواں سال تھا کہ پیغمبر خدا (ص)ایک ایسے  مرض میں مبتلا ہوئے، جو ان کے لئے مرض الموت ثابت ہوا۔ یہ خاندان ُ رسول کے لئے بڑی مصیبت کاوقت تھا۔ حضرت  علی علیہ السّلام رسول کی بیماری میں آپ کے پاس موجود رہ کر تیمارداری کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اور رسول اللہ (ص) بھی آپنے پاس سے ایک لمحہ کے لئے بھی حضرت علی علیہ السّلام کا جدا ہونا گوارانہیں کرتے تھے . پیغمبر اسلام (ص) نے علی علیہ السّلام کو آپنے پاس بلایا اور سینے سے لگا کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اور ضروری وصیتیں فرمائیں . اس گفتگو کے بعد بھی حضرت  علی علیہ السّلام کو آپنے سے جدا نہ ہونے دیا اور ان کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا. جس وقت رسول اللہ (ص) کی روح جسم سے جداہوئی، اس وقت بھی حضرت  علی علیہ السّلام کاہاتھ رسول کے سینے پر رکھاہوا تھا۔

 

  جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا ہو،  وہ بعد رسول ان کی لاش کو کس طرح چھوڑ سکتا تھا، لہذا رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل کا تمام  کام علی علیہ السّلام نےاپنے  ہاتھوں سے انجام دیا اور رسول اللہ (ص)کواپنے ھاتھوں سے  قبر میں  رکھ کر دفن کر دیا۔

 

حضرت علی علیہ السلام کی طاہری خلافت
رسول اللہ (ص) کے بعدحضرت  علی علیہ السّلام نے پچیس برس خانہ نشینی میں بسر کئے۔ جب سن  ۳۵ ھجری قمری میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا تو  پہلےتو آپ نے انکار کر دیا، لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکرلیا کہ میں قران اور سنت ُ پیغمبر(ص) کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔ جب مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کر لیا  تو آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص دینی حکومت کو برداشت نہ کرسکا، لہذا بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ، جنھیں آپ کی دینی حکومت کی وجہ سے آپنے اقتدار کے ختم ہوجانے کا خطرہمحسوس ہو گیا  تھا، وہ آپ کے خلاف  کھڑے ہوگئے۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا،جس کے نتیجے میں جمل، صفین، اور نہروان کی جنگیں ہوئیں . ان جنگوں میں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السّلام نے اس شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر، احد، خندق، وخیبرمیں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان جنگوں کی وجہ سے آپ کو اتنا موقع نہ مل سکا کہ آپ اس طرح اصلاح فرماتے جیساکہ آپ کا  دل چاہتا تھا . پھر بھی آپ نے اس مختصرسی مدّت میں، سادہ اسلامی زندگی،  مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے۔ آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور آپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھالیتے تھے . جو مال بیت المال میں اتا تھا اسے تمام حقداروں کے  درمیان برابر تقسیم کردیتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نےجب  یہ چاہا کہ انہیں، دوسرے مسلمانوں سے کچھ زیادہ مل جائے،تو  آپ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ممکن تھا، مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ، لہذا مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے اپنے کسی عزیز کو دوسروں سے زیادہ حصہ دوں۔ انتہا یہ  ہے کہ اگرآپ کبھی رات کے وقت بیت المال میں حساب وکتاب میں مصروف ہوتے اور کوئی ملاقات کے لیے آجاتا اور غیر متعلق باتیں کرنے لگتا تو آپ چراغ کو  بھجادیا کرتے تھے اور کہتے تھے  کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہیں ہونا چاہئے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں ائے وہ جلد سے جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کو جمع کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔

 

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت

 

جنگ نھروان کے بعد خوارج میں سے کچھ لوگ جیسے عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، ومبرک بن عبد الله تمیمی اور عمر و بن بکر تمیمی ایک رات میں ایک جگہ جمع ہوئےاور نھروان میں مارے گئے اپنےساتھیوں کو یاد کیا کرتے ہوئے ان دنوں کے حالات اور داخلی جنگوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنےلگے۔ بالآخروہ اس نتیجہ پر پھونچے که اس قتل و غارت کی وجہ حضرت علی (ع) معاویہ اورعمرو عاص ھیں اور اگر ان تینوں افراد کو قتل کر دیا جائے تو مسلمان اپنے مسائل کوخود حل کر لیں گے۔ لھذا انھوں نے آپس میں طےکیا کہ ھم میں سے ھر ایک آدمی ان میں سے ایک ایک کو قتل کرے گا ۔

 

ابن ملجم نے حضرت علی (ع) کے قتل کا عھد کیا اور سن۴۰ ہجری قمری میں انیسویں رمضان المبارک کی شب کو کچھ لوگوں کے ساتھ مسجد کوفہ  میں آکر بیٹھ گیا ۔ اس شب حضرت علی (ع) اپنی بیٹی کے گھر مھمان تھے اور صبح کو  واقع ھونے والے حادثہ سے با خبر تھے۔ لھذا جب اس مسئلہ کو اپنی بیٹی کے سامنے بیان کیا تو ام کلثوم نے کہا کہ کل صبح آپ ۔۔۔کو مسجد میں بھیج دیجئے ۔

 

حضرت علی (ع) نے فرمایا : قضائے الٰھی سے فرار نھیں کیا جا سکتا۔ پھر آپنے کمر کے پٹکے کو کس کر باندھا اور  اس شعر کو گنگناتےہوئے مسجد کی طرف روانہ ھوگئے ۔

 

” اپنی کمر کو موت کے لئے کس لو ، اس لئے کہ موت تم سے ملاقات کرے گی ۔

 

اور جب موت تمھاری تلاش میں آئے تو موت کے ڈر سے نالہ و فریاد نہ کرو “۔

 

حضرت علی (ع) سجده میں تھے کہ ابن ملجم نے آپ کے فرق مبارک پر تلوار کا وار کیا۔ آپ کے سر سے خون جاری ھواآپ کی داڑھی اور محراب خون سے رنگین ہو گئ۔ اس حالت میں حضرت علی (ع) نے فرمایا : ” فزت و رب الکعبه “ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ھو گیا۔ پھر سوره طہ کی اس آیت کی تلاوت فرمائی :

 

”ھم نے تم کو خاک سے پیدا کیا ھے اور اسی خاک میں واپس پلٹا دیں گے اور پھر اسی خاک تمھیں دوباره اٹھائیں گے “۔

 

حضرت علی (ع) اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی لوگوں کی اصلاح و سعادت کی طرف متوجہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں، عزیزوں اور تمام مسلمانوں سے اس طرح وصیت فرمائی :

 

” میں تمہیں پرھیز گاری کی وصیت کرتا ھوں اور وصیت کرتا ھوں کہ تم اپنے تمام امور کو منظم کرو اور ھمیشه مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی فکر کرتے رھو ۔ یتیموں کو فراموش نہ کرو ۔ پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرو ۔ قرآن کو اپنا عملی نصاب قرار دو ،نماز کی بہت زیادہ قدر کرو، کیوں  کہ یہ تمھارے دین کا ستون ھے “۔

 

آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کا عالم یہ تھا کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لا یا گیا، اورآپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور انکھوں سے انسو جاری ہیں، تو آپ کو اس پر بھی رحم اگیا۔ آپنے اپنے  دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ  ہمارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا،  اگر میں صحتیاب ہو گیا تو مجھے اختیار ہے کہ چاہے اسے سزا دوں یا معاف کردوں اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور آپ نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگاناکیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے ۔ اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کرنا کیوں کہ یہ اسلامی  تعلیم کے خلاف ہے۔

 

حضرت  علی علیہ السّلام دو روز تک بستر بیماری پر کرب و بیچینی  کے ساتھ کروٹیں بدلتے رہے۔ اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور ۲۱رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی روح جسم سے پرواز کر گئ .حضرت امام حسن و امام حسین علیہما السّلام نے تجہیزو تکفین کے بعد آپ کے جسم اطہر کو نجف میں دفن کر دیا۔
Read more ...
Write comment (0 Comments)

اھداف عزاداری امام حسین علیه السلام

Details
امام حسین علیہ السلام
04 OCTOBER 2016

مؤلف:    اقبال حیدر حیدری

Read more ...
Write comment (0 Comments)

اہلبيت سے محبت ايمان کامل کا تقاضا ہے

Details
مختلف مقالات
02 SEPTEMBER 2016


اقتباس از عقاب الاعمال شيخ صدوق عليہ الرحمہ
اھل بیت سے بغض رکھنے کی سزا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہمارے اہل بیت (علیھم السلام) کے ساتھ بغض رکھے گا تو الله تعالیٰ اسے یہودی اٹھائے گا پوچھا گیا یارسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اگرچہ وہ شھادتین ہی کیوں نہ پڑھتا ہو !!؟؟ فرمایا جی ہاں اس نے اپنی جان بچانے یا ذلیل و خوار ہو کر جزیہ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے شھادتین کا اقرار کیا ہے مزید فرمایا ہمارے اہلبیت سے بغض رکھنے والے کو الله یہودی اٹھائے گا پوچھا گیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یہ کس طرح ہو گا ؟ فرما یا اگر یہ لوگ دجال کا زمانہ پائیں تو اس کے مذہب کو اختیار کرکے اس پر ایمان لے آئیں گے۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے اس روایت کو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ ہم اہل بیت سے بغض رکھنے والے کو الله تعالیٰ قیامت والے دن ہاتھوں کے بغیر اٹھائے گا۔

فرمان الہی سے ہٹ کر عبادت کرنے والوں کی سزا (۱) حضرت اما م جعفر صادق (علیہ السلام)ارشاد فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے ایک شخص نے اس قدر الله کی عبادت کی کہ سوکھ کر لکڑی کی مانند ہو گیا خدا نے اس زمانے کے نبی کی طرف وحی کی اور کہا کہ اس سے کہو کہ خدا نے فرمایا ہے مجھے اپنی عزت ، جلالت اور عظمت کی قسم اگر تم میری اتنی عبادت کرو کہ دیگ میں پڑی ہوئی چیز کی طرح گل سٹر کر پانی ہو جاؤ تو تب بھی میں اسے قبول نہ کروں گا مگر یہ کہ میرے فرمان کے مطابق عبادت کی جائے۔
امر الہی کو سبک سمجھنے کی سزا
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں ، غفلت سے بچو غفلت کرنے والا خود سے غافل ہوتا ہے۔ اور امر الہی کو سبک سمجھنا چھوڑ دو کیونکہ امر الہی کو سبک سمجھنے والے کو الله تعالیٰ قیامت والے دن ذلیل و خوا ر کرے گا۔

اہل بیت (علیھم السلام) کے حق سے جاہل ہونے کی سزا (۱) راوی کہتا ہے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھے فرمایا اے معلی اگر کوئی بندہٴ خدا رکن و مقام کے درمیان سو سال تک الله کی عبادت کرتا رہے ۔دن میں روزے رکھے اور راتیں قیام و سجود میں گزار دے یہاں تک کہ اس کے آبرو آنکھوں تک لٹک آئیں ، کمر جھک جائے ، اور وہ ہمارے حق سے جاہل ہو تو اس کے لئے کسی قسم کا ثواب و جزاء نہیں ہے۔

(۲) راوی کہتا ہے کہ حضرت ا مام زین العابدین (علیہ السلام)نے مجھ سے دریافت کیا کہ کونسی سی زمین افضل ہے میں نے عرض کی کہ خدا و رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور فرزند رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں حضرت نے فرمایا افضل جگہ رکن و مقام کا درمیانی علاقہ ہے فرمایا اگر کوئی شخص حضرت نوح کی طرح نو سو پچاس سالہ زندگی پائے اور ساری زندگی دن میں روزے رکھے اور رات میں اس افضل زمین پر نمازیں پڑھتا رہے اور اگر ہماری ولایت کے بغیر بارگاہ خداوند میں حاضری دے گا تو اسے کوئی عمل بھی فائدہ نہ دے گا۔

(۳) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا آپ کے سامنے چادر پر تقریباً پچاس آدمی بیٹھے ہوئے تھے ایک طویل خاموشی کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا تمھیں کیا ہوگیا ہے ؟ شاید تم یہ خیال کر رہے ہو کہ میں الله کا نبی ہوں خدا کی قسم میں ایسا نہیں ہوں بلکہ میری حضرت رسو ل خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے قرابت داری ہے اور میں انہی کی نسل سے ہوں جو شخص ہمارے ساتھ اچھائی کرے گا خدا اسکے ساتھ بھلائی کرے گا جو ہم سے محبت رکھے گا۔ خدا اس سے محبت رکھے گا اور جو ہمیں محروم رکھے گا تو خدا اسے محروم رکھے گا کیا جانتے ہو کہ کو نسا زمین کا حصّہ الله کے نزدیک مقام و منزلت کے لحاظ سے افضل ہے ؟

راوی کہتا ہے کہ ہم سب خاموش رہے حضرت نے جواب دیتے ہوئے فرمایا یہی مکہ مکرمہ ہی تو ہے جسے الله نے اپنے لئے بہترین نقطہٴ زمین قرار دیا ہے یہاں اپنا حرم بنایا اور اسے اپنا گھر قرار دیا پھر پوچھا کیا جانتے ہو کہ مکہ کا کونسا حصہ محترم ہے؟ سب خاموش رہے تو آپ نے خود ہی جواب میں فرمایا مسجد الحرام، اسکا محترم ترین مقام ہے۔ پھر پوچھا کیا جانتے ہو کہ مسجد الحرام میں کونسی جگہ الله کے نزدیک زیادہ عظمت و حرمت کی حامل ہے ؟ سب خاموش رہے اور آپ نے خود ہی جواب میں ارشاد فرمایا کہ وہ جگہ رکن اسود ، مقام (ابراہیم) اور باب کعبہ کے درمیان ہے یہی جگہ حضرت اسماعیل کا حطیم تھی اسی جگہ اپنی قربانی کو عذا دی تھی اور نماز ادا کی تھی۔ خدا کی قسم اگر کوئی شخص اس جگہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر عبادت میں مشغول رہے ساری ساری رات نمازیں پڑھتا رہے اور جب دن ہو تو اسے روزے میں گزار دے یہاں تک کہ رات ہو جائے اور وہ ہمارا حق شناس نہ ہو اور ہم اہل بیت کی عظمت سے نا آشنا ہو تو کبھی بھی الله اسکے کسی عمل کو شرف قبولیت نہ بخشے گا۔

امام کی معرفت کے بغیر مرنے کی سزا (۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اس فرمان کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ جو شخص امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جہالت کی موت مرا ہے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے ہاتھ کیساتھ سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا اسوقت تجھے اس (معرفت امام (علیہ السلام)) کی بہت زیادہ ضرورت ہو گی نیز فرمایا اس حوالے سے تیری سوچ عمدہ ہے۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جن ائمہ کی اطاعت واجب ہے وہ ہم ہیں جو ان کا انکار کرے گا وہ یہودی اور نصرانی مرے گا۔ خدا کی قسم جب سے الله نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح قبض فرمائی ہے زمین کو ہدایت کرنے والے امام (علیہ السلام) کے بغیر نہیں چھوڑا ۔یہ بندوں پر الله کی حجّت ہیں جنھوں نے ان کا دامن چھوڑا وہ ہلاک ہوئے اور جنھوں نے ان کی فرمانبرداری کی ، ان کی نجات کی ذمہ داری الله پر ہے۔
اس شخص کی سزا جس نے خدا کی طرف سے منسوب نہ ہونے والے ظالم پیشوا کی اطاعت کی
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا کہ
الله تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ملت اسلام کا جو فرد اس ظالم پیشوا کی اطاعت کرے جو خدا کا بنایا ہوا نہیں ہے تو میں (خدا) اس پر حتماً عذاب نازل کروں گا خواہ اس ملت کے نیک اعمال ہوں اور وہ متقی ہوں اور ملت اسلام کا جو فرد اس امام کی اطاعت کرے جو ہادیِ خدا ہے تو میں خدا حتماً اسکو معاف کر دوں گا خواہ اسکے اعمال ظلم و گناہ پر مشتمل ہی کیوں نہ ہوں۔

اعلم اور افقہ کے ہوتے ہوئے قوم کی ذمہ داری سنبھالنے کی سزا (۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ
جو شخص اعلم اور افقہ حضرات کی موجودگی کے باوجود قوم کی ذمہ داری اپنے کندھے پر ڈال لے تو قیامت والے دن اسکا معاملہ (جہنم کے) نیچے درجے میں ہوگا۔
نماز اور ذکر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے وقت درود نہ بھیجنے کی سزا
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر درود نہ بھیجے تو اسکی نماز جنت کے علاوہ کسی اور راہ پر ہوگی نیز حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جب کسی کے سامنے میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ جہنم میں جائے گا اور رحمت خداوندی سے دور ہو گا نیز فرمایا جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول جائے تو وہ جنت کی راہ گم کر بیٹھا ہے۔

امیر المؤمنین (علیہ السلام) کیساتھ دشمنی رکھنے اور انکی ولایت کا انکار یا شک کرنے کی سزا (۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں مسلسل شراب پینے والا بت پرست کی مانند ہے اور آل محمد کا دشمن تو اس سے بھی بدتر ہے راوی کہتا ہے کہ میں آپ پر قربان جاؤں یہ بت پرستوں سے بدتر کیوں ہے ؟ فرمایا شاید شرابی کی کسی دن شفاعت ہو جائے لیکن اگر تمام اہل زمین و آسمان بھی اہل بیت کے دشمن کی شفاعت کرنا چا ہیں تو قابل قبول نہ ہوگی؟۔

(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسو ل خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جب تک (حضرت علی (علیہ السلام)) کی محبت کا دم بھرنے والے اس دنیا میں ہیں، جنت انکی مشتاق ہے اور محبانِ علی (علیہ السلام) کیلئے نور بڑھانے کی منتظر ہے۔ اس طرح جب تک (دشمنان علی (علیہ السلام) اس دنیا میں ہیں جہنم اپنی تیز اور خوفناک آوازوں کیساتھ شدّت سے ان کی منتظر ہے۔

(۳)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ دشمن اہلبیت (علیھم السلام) جتنی عبادت و کوشش کرے وہ اس آیت کا مصداق ہے کہ وہ اپنے عمل میں جتنی چاہے مشقت کرے وہ جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ ہی میں ۔

(۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ
ہم اہلبیت (علیھم السلام)کیساتھ دشمنی رکھنے والا ناصبی نہیں ہے کیونکہ اس دنیا میں کوئی ایسا (بدبخت) انسان موجود نہیں ہے جو کہے کہ میں محمد وآل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کیساتھ بغض و عدوات رکھتا ہوں بلکہ ناصبی وہ ہے جو تم سے دشمنی رکھتا ہو کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ تم ہمارے دوست اور پیرو کار ہو۔
(۵)حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں اگر الله تعالیٰ کے خلق کیئے ہوئے تمام فرشتے ، تمام برگزیدہ انبیاء تمام صدیق اور شہداء ہم اہلبیت (علیھم السلام) کے دشمن کی شفاعت کرنا چاہیں کہ الله اسے جہنم سے نکال دے تب بھی الله اسے کبھی جہنم سے نہ نکالے گا بلکہ الله تبارک و تعالیٰ نے تو قرآن میں فرمایا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے (جہنم) میں رہیں گے۔

(۶) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو شخص ہمارے ساتھ ہونے والی بدسلوکی ، ہم پر ہونے والے ظلم اور ہمارا حق چھننے سے آگاہ نہیں ہے اور اسے غلط کام شمار نہیں کرتا تو وہ ہم پر ظلم وستم کرنے والوں کا ساتھی ہے۔

(۷) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ ﴿مرجئہ﴾ اور انکے پیشوا کو اندھا محشور کرے گا اور انہیں کافر دیکھ کر کہیں گے ساری امت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اندھی محشور ہوئی ہے تو ان سے کہا جائے گا یہ امت محمدیہ کے پیرو کار نہیں ہیں انہوں نے تبدّل و تغییر کیا ہے لہذا یہ خود بھی تبدیل و متغیر ہوگئے ہیں۔

(۸) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جس طرح الله تعالیٰ ہر نماز کے وقت اپنے نمازی معتقد اور مؤمن بندے پر رحمت نازل کرتا ہے اسی طرح بعض پر لعنت بھی کرتا ہے میں نے پوچھا آپ پر قربان جاؤں ان پر لعنت کیوں ہوتی ہے؟ فرمایا ہمارے حق کا انکار کرنے اور ہماری تکذیب کرنے کی وجہ سے ان پر لعنت ہوتی ہے۔

(۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ قیامت والے دن ابلیس لعین اور اس امت کے گمراہ لوگوں کو نکیل ڈال کر لایا جائے گا جن کا حجم احد پہاڑ جتنا ہوگا انہیں اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا اس سے جہنم کا ایک دروازہ بند ہوجائے گا۔

(۱۰) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے کہ کیا تجھ تک ختم کر دینے کا قصہ پہنچا ہے ؟ فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ قائم آل محمد (عج) تلوار سے انہیں ختم کر دیں گے میں نے عرض کی کہ اس آیت کا کیا معنی ہے کہ چہرے خوف سے لرزر ہے ہونگے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ متواضع ہونگے اور روگردانی نہ کر سکیں گے عرض کی ﴿عَامِلَة﴾ کا کیا معنی ہے فرمایا ان کے اعمال فرمان الہی کے مطابق نہ ہونگے ، عرض کی ﴿نَاصِبَة﴾ کا کیا معنی ہے فرمایا جو ولی امر کے اذن کے بغیر منصوب ہوئے ہوں اور جو صلاحیت تو نہ رکھتے تھے لیکن ان کو امامت کے لئے منسوب کر دیا۔ عرض کی ﴿تُصْلیٰ نَاراً حَامِیَة﴾کا کیا معنی ہے فرمایا دنیا میں قائم آل محمد (عج) کی حکومت کے وقت آگ کی جنگ اور آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔

(۱۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)نے فرمایا کہ خداوند متعال نے حضرت علی (علیہ السلام) کو اپنے اور مخلوق کے درمیان ایک نشانی قرار دیا ہے ۔ الله اور مخلوق کے درمیان حضرت علی (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور نشانی (آیت ) نہیں ہے جس نے ان کی اتباع کی وہ مؤمن ٹھہرا، انکا منکر کافر اور انکی ذات میں شک کرنے والا مشرک ہے۔

(۱۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام) ہدایت کا باب ہیں انکی مخالفت کرنے والا کافر اور انکا منکر جہنمی ہے۔

(۱۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تمام اہلیان زمین ولایت امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے منکر ہو جائیں تو الله سب پر عذاب نازل کرے گا اور سب کو جہنم میں ڈالے گا۔

(۱۴) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا کہ تمھارا چچا زاد دیوانے اعرابی کی طرح میرے پاس آیا ۔ اس نے کھلے کھلے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ایک چادر کندے پر ڈال رکھی تھی اور جوتے ہاتھوں میں لیئے ہوئے تھا مجھ سے کہنے لگا بعض لوگ آپ (علیہ السلام) کے متعلق کچھ باتیں کرتے ہیں میں نے اس سے پوچھا کیا تم عرب نہیں ہو؟ کہنے لگا کیوں نہیں میں عرب ہوں میں نے کہا عرب تو حضرت علی (علیہ السلام) سے بغض نہیں رکھتے اور پھر میں نے اس سے کہا شاید تمھارا تعلق ان لوگوں سے ہے جو حوض کوثر کے منکر ہیں جان لو ! خدا کی قسم اگر اس سے بغض رکھتے ہوئے حوض کوثر پر جاؤ گے تو یقینا تشنگی سے مرجاؤ گے۔

(۱۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آپ پر سلام ہو اور خدا نے بھی سلام کہلا بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ ساتوں آسمانوں اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے اور ساتوں زمین اور ان پر جو کچھ بھی ہے ان میں سے کوئی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جو رکن و مقام سے بڑھ کر ہو اگر کوئی بندہ زمین و آسمان کی خلقت سے لیکر اب تک اس مقام پر دعا و مناجات کرتا رہے اور منکر ولایت علی (علیہ السلام) کی شکل میں مجھ سے ملاقات کرے تو میں یقینا اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالوں گا ۔

(۱۶) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت سے مشرف ہوا اور ان سے عرض کی میں آپ پر قربان جاؤں میرا ایک ہمسایہ ہے میں اسکی آواز سے بیدار ہوتا ہوں وہ قرآن پڑھتا رہتا ہے ، آیتوں کی مکرر تلاوت کرتا ہے اور تضرع و زاری کرتا ہے اور رو رو کر دعائیں مانگتا ہے میں نے مختلف لوگوں سے ظاہر اور پوشیدہ طور پر اسکے متعلق پوچھا ہے انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ یہ شخص تمام محارم خدا سے اجتناب کرتا ہے۔ حضرت نے مجھ سے فرمایا اے میسر کیا یہ تجھ جیسا عقیدہ و اعتقاد بھی رکھتا ہے ؟

میں نے عرض کہ خدا بہتر جانتا ہے ۔ بہر حال جب میں آئندہ سال حج پر گیا تو اس کے متعلق ایک شخص سے پوچھا تو اس نے بتایا یہ ایسا کوئی عقیدہ نہیں رکھتا میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس شخص کے متعلق بتایا حضرت نے گذشتہ سال کی طرح دوبارہ وہی سوال کیا کہ کیا تجھ جیسا عقیدہ و اعتقاد رکھتا ہے؟ میں نے کہا نہیں حضرت نے فرمایا میسر بتاؤ محترم ترین نقطہٴ زمین کونسا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ خدا و رسول اور فرزند رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا اے میسر رکن و مقام کے درمیان بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور اسی طرح قبر رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور منبر کے درمیان بھی بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اگر خداوند متعال کسی شخص کی زندگی اتنی طولانی کر دے کہ وہ رکن و مقام اور قبر رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور منبر کے درمیان ایک ہزار سال تک عبارت کرتا رہے اور قربانی کے خوبصورت جانور کی طرح بستر پر مظلومیت کی حالت میں قتل ہو جائے اور ہماری ولایت کے بغیر حق تعالیٰ سے ملاقات کرے تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ الله اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالے۔

(۱۷) راوی نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جونہی دشمن علی (علیہ السلام) دنیا سے جاتا ہے تو اسے جہنم کے کھولتے ہوئے پانی کا گھونٹ پلایا جاتا ہے۔ دشمنِ علی میں فرق نہیں ہے خواہ نمازی ہو یا زانی۔

(۱۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ہم اہل بیت (علیھم السلام) کیساتھ دشمنی رکھنے والے میں فرق نہیں ہے کہ وہ روزے رکھتا ہو ، نمازیں پڑھتا ہو یا زنا اور چوریاں کرتا ہو وہ حتماً جہنمی ہے وہ یقینا جہنم میں جائے گا ۔

(۱۹) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ حضرت علی (علیہ السلام) کو گالیاں بکنے والے شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرمایا خدا کی قسم اسکا خون حلال ہے ہاں البتہ ایسا کرنا کسی بے گناہ کے قتل کا سبب نہ بنے راوی نے تب عرض کی کہ یہ کس طرح ایک بے گناہ کے قتل کا سبب ہو سکتا ہے ؟ فرمایا اس کا فر کے مقابلے میں کسی مؤمن کا قتل ہونا۔

(۲۰) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا ہمارا دشمن جہنم کے گڑھے کے کنارے پر ہے اور بہر حال جہنم میں جائے گا اور جہنمی نابود ہونگے اور یہ انکا بُرا ٹھکانہ ہے جیسا کہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿یہ (جہنم) تکبر کرنے والوں کا بُرا ٹھکانہ ہے﴾ کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے کہ خدا نے جسے خیر و بھلائی عطا کی ہو اور وہ ہمارا محب نہ ہو۔

(۲۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں یقینا ایک مؤمن اپنے ساتھی کی شفاعت کر سکتا ہے مگر یہ کہ ناصبی ہو کیونکہ اگر تمام انبیاء مرسل ، اور مقرب فرشتے کسی ناصبی کی شفاعت کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے۔

(۲۲)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی کشتی میں کتے اور خنزیر تک کو سوار کیا لیکن حرام زادے کو نہ بٹھایا ۔ اور دشمن اہل بیت (علیھم السلام) تو حرام زادے سے بڑھ کر ہے۔

(۲۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کی بارگاہ میں عرض کی کہ
میرا ایک ہمسایہ ہے جو محرمات خداوندی کا مرتکب ہوتا ہے یہاں تک بعض اوقات کہ نماز بھی نہیں پڑھتا اور اسکے علاوہ بھی اسکی کئی بد اعمالیاں ہیں بتائیں حضرت نے فرمایا سبحان الله کیا چاہتے ہو اس سے بھی بد تر انسان کے متعلق تمھیں بتاؤں ۔ میں نے عرض کی جی ہاں فرمایا ہم سے دشمنی رکھنے والا شخص اس سے بھی بد تر ہے۔

Read more ...
Write comment (0 Comments)

More Articles ...

  1. علمدار حسین ابو الفضل عباس علیہ السلام
  2. امام علی(ع)اور آج کے مسلمانوں کے مسائل اور ان کا حل
  3. شہید رابع رحمۃ اللہ علیہ
صفحه4 از6
  • شروع
  • قبلی
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6
  • بعدی
  • پایان
Shaheede Rabe Shaheede Rabe Shaheede Rabe Shia Network
Copyright © 2015 Joomla!. All Rights Reserved. Powered by Shaheede Rabe - Designed by JoomlArt.com. Bootstrap is a front-end framework of Twitter, Inc. Code licensed under Apache License v2.0. Font Awesome font licensed under SIL OFL 1.1.